یہ پورٹل خالصتاً علمی، فکری اور اصلاحی مواد کو عام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اسلامی معاشرہ کی اصلاح اور فلاح و بہبود کے لیے جہاں علماء کرام کی دینی جدوجہد بنیادی اہمیت رکھتی ہے، وہیں مکاتبِ دینیہ اور مدارسِ اسلامیہ کا وجود ایک عظیم نعمت ہے۔ ایسے ادارے نہ صرف علمِ دین کے فروغ کا ذریعہ ہوتے ہیں، بلکہ سیرت و کردار کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہی مبارک اداروں میں سے ایک روشن چراغ "مدرسہ تعلیم القرآن بیلا" ہے، جس کا قیام ایک دینی خلا کو پُر کرنے اور گمراہی و جہالت میں ڈوبے علاقے کو ایمان و علم کے نور سے منور کرنے کے جذبے کے تحت عمل میں آیا۔
35 سال قبل یہ گاؤں جہالت کی تصویر تھا۔ مسلمان دین سے ناواقف، شعائر اسلام سے بے خبر، حتیٰ کہ نماز جنازہ اور قربانی جیسے بنیادی احکام سے بھی لاعلم تھے۔ سڑکوں، آمد و رفت، اور بنیادی سہولیات کا فقدان تھا۔ لوگ بیل گاڑی پر سفر کرتے اور جمعہ کی نماز کے لیے 8 کلومیٹر پیدل چل کر موٹا کھٹوڑا جایا کرتے تھے۔
ان حالات میں حاجی عبداللہ اگوان نے اصلاحِ قوم کا بیڑا اٹھایا۔ "شریعت و جہالت" کتاب نے ان میں دینی بیداری پیدا کی۔ انہوں نے مہوا اور ویجپڈی کے احباب سے مشورے کیے اور بالآخر بیلا گاؤں میں دینی تعلیم کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔
1985 میں حافظ اسحاق وستانوی رحمہ اللہ کی رہنمائی اور حضرت مولانا غلام وستانوی رحمہ اللہ کی سرپرستی میں مسجد کے دو کچے کمروں میں مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی۔ پہلے مہتمم مولانا اقبال مدافری مقرر ہوئے اور 25 طلباء سے تعلیمی سفر شروع ہوا۔
طلباء کی تعداد بڑھنے پر ساڑھے تین ایکڑ زمین خریدی گئی۔ مختلف بزرگوں کی دعا اور قربانیوں سے نئی عمارت قائم ہوئی۔ بعد ازاں مولانا یعقوب صاحب کوساڑی نے دس سال خدمت کی، جس کے بعد مولانا عبد الرشید صاحب مد ظلہ نے مہتمم کی ذمہ داری سنبھالی۔
مدرسہ میں اکابر علماء کی آمد نے ادارے کو جلا بخشی۔ ان میں حضرت قاری صدیق باندویؒ، مولانا عبد اللہ کاپودرویؒ، مفتی عبداللہ ہانسوٹیؒ، مولانا حنیف وستانوی مدظلہ اور دیگر اکابر شامل ہیں۔
حاجی عبداللہ اگوان، مولانا اقبال مدافری، مولانا یعقوب کوساڑی، حافظ اسحاق وستانویؒ، مولانا حنیف وستانوی اور مولانا عبد الرشید کوساڑی سمیت جملہ اساتذہ نے اپنی محنتوں سے اس گمنام گاؤں میں علم کا چراغ روشن کیا۔ فجزاہم الله عنا خير الجزاء