Notification texts go here Contact Us Buy Now!

الفت کا تقاضہ ہے دلدار چلے آؤ..

🌹 غزل: دلدار چلے آؤ 🌹

✍️ شاعر: کریم شاکر
📅 تاریخ: 18/12/2024

الفت کا تقاضا ہے، دلدار چلے آؤ
تنہا میں رہوں کب تک، اب یار چلے آؤ

تم روح کی راحت ہو، تم دل کی ضرورت ہو
تم میری محبت ہو، تم پیار چلے آؤ

اک پل بھی نہیں ایسا، تم یاد نہ آتے ہو
جینا ہے مرا اب تو دشوار، چلے آؤ

تنہائی کا عالم ہے اور یاد تمہاری ہے
دل کا ہے یہی تم سے اصرار، چلے آؤ

جذبات مرے دل کے، دل میں ہی نہ رہ جائیں
کرنا ہے مجھے تم سے اظہار، چلے آؤ

بےتاب ہے یہ دھڑکن، بےچین ہیں یہ سانسیں
برداشت نہیں ہوتا، سرکار چلے آؤ

پلکوں پہ بٹھا لوں گا، دھڑکن میں چھپا لوں گا
شاکر کی گزارش ہے، اک بار چلے آؤ

❤️ شکریہ برائے مطالعہ 🌸





وڈیو دیکھنے اور سننے کے لیے یہاں کلک کریں!




About the Author

فاضل :جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل،گجرات۔

ایک تبصرہ شائع کریں

Cookie Consent
We serve cookies on this site to analyze traffic, remember your preferences, and optimize your experience.
Oops!
It seems there is something wrong with your internet connection. Please connect to the internet and start browsing again.
AdBlock Detected!
We have detected that you are using adblocking plugin in your browser.
The revenue we earn by the advertisements is used to manage this website, we request you to whitelist our website in your adblocking plugin.
Site is Blocked
Sorry! This site is not available in your country.
NextGen Digital Welcome to WhatsApp chat
Howdy! How can we help you today?
Type here...